حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ہر سال 2 نومبر ایک ایسے دردناک واقعہ کی یاد تازہ کرتا ہے جو عصرِ حاضر کی نوآبادیاتی تاریخ کے بدترین جرائم میں شمار ہوتا ہے۔ یہ 1917ء کا منحوس ’’اعلامیہ بالفور‘‘ ہے، جس کے تحت برطانیہ نے وہ چیز کسی ایسے شخص کو دے دی جو نہ اس کا مالک تھا اور نہ ہی اس کا مستحق۔ اس طرح فلسطین کی تاریخی سرزمین پر ایک غاصب حکومت کے قیام کی راہ ہموار کی گئی۔
اس دن کے موقع پر دنیا بھر کی آزادی پسند آوازیں، بالخصوص مراکش کی شہری اور حقوقی تحریکیں، ایک بار پھر متحرک ہو جاتی ہیں تاکہ اس حقیقت پر زور دیا جا سکے کہ یہ نوآبادیاتی جرم اس مسلسل المیہ کی حقیقی بنیاد تھا، جس کی لپیٹ میں گزشتہ ایک صدی سے زیادہ عرصے سے فلسطینی قوم ہے۔
استعمار کی جڑیں اور سرزمین کے اصل مالکان کو نظرانداز کرنا
مراکش کے شہری و حقوقی کارکن اور بین الاقوامی عوامی یکجہتی نیٹ ورک کے کوآرڈینیٹر محمد الغفری نے خبر رساں ویب سائٹ ’’العہد‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: اعلامیہ بالفور برطانوی استعمار کے مقاصد اور عرب خطے میں اس کے جغرافیائی و سیاسی مفادات کے تحفظ کے لیے جاری کیا گیا تھا۔
اس کا بدترین پہلو یہ تھا کہ سرزمین کے اصل مالکان کو مکمل طور پر نظرانداز کرتے ہوئے صیہونی نوآبادیاتی منصوبے کو ترجیح دی گئی اور فلسطینی قوم کے تمام سیاسی و قومی حقوق پامال کیے گئے۔ یہ اقدام تمام بین الاقوامی اور انسانی اصولوں اور معاہدوں کے بھی منافی تھا۔
انہوں نے مزید کہا: برطانوی استعمار کی اسی بالادستی نے صیہونیوں کی منظم ہجرت اور مسلح قبضے کے لیے دروازے کھولے، جو 1948ء کے عظیم المیے تک جاری رہی۔ اس کے نتیجے میں لاکھوں فلسطینیوں کو جبری بے دخلی اور بے گھری کا سامنا کرنا پڑا۔ اس طرح ایک ایسی قوم کے خلاف منظم بین الاقوامی دہشت گردی کی ابتدائی بنیادیں رکھ دی گئیں، جو اپنے ہی وطن میں امن و سلامتی کے ساتھ زندگی بسر کر رہی تھی۔
اعلامیہ بالفور کی اہمیت صرف تاریخی پہلو تک محدود نہیں بلکہ یہ فلسطین کے مسئلہ سے وابستہ مراکشی عوامی شعور کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ مراکش کی شہری اور حقوقی تنظیموں، بالخصوص ’’مراکش محاذ برائے حمایتِ فلسطین و مخالفتِ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی‘‘ نے اس موقع پر مختلف احتجاجی اور مذمتی سرگرمیوں کا اہتمام کیا۔ اس محاذ کی قومی سیکرٹریٹ کی رابطہ کاری کی ذمہ داری محمد الغفری کے پاس ہے۔ ان سرگرمیوں میں پارلیمنٹ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ اور برطانوی سفارتی حلقوں کو مراسلے بھیجنا شامل ہے۔
الغفری نے مزید کہا: ان سرگرمیوں کے ذریعہ واضح پیغام دیا گیا ہے کہ برطانیہ کو اس کے تاریخی جرم کے لیے جوابدہ ہونا چاہیے اور برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ فلسطینی قوم کے خلاف اپنی تاریخی غلطی پر باضابطہ معافی مانگے۔
انہوں نے کہا: اس اعلامیہ کے اثرات آج بھی زندہ ہیں اور فلسطینی عوام کی روزمرہ زندگی میں ان کے مظاہر واضح ہیں۔ غزہ اور مغربی کنارے میں جاری نسل کشی کی جنگ، صیہونیوں کی مسلسل جبری بے دخلی اور فلسطینی سرزمین کو ہتھیانے کی سازشیں اسی تاریخی جرم کا تسلسل ہیں۔
فلسطین حق ہے اور انصاف وقت گزرنے سے ختم نہیں ہوتا
محمد الغفری اور مراکش میں صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے مخالفین اور حامیانِ فلسطین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اعلامیہ بالفور کے مسلسل اثرات کا عملی جواب، محاذِ مزاحمت کو مضبوط بنانے، عوامی یکجہتی کو فروغ دینے اور مغربی استعمار کی ان پالیسیوں کا محاسبہ کرنے میں مضمر ہے، جنہوں نے جارحیت کے لیے ضروری جواز فراہم کیا اور آج بھی ایسا کر رہی ہیں۔
فلسطین مراکش کی قوم اور اس کی بیدار قوتوں کے نزدیک ایک مسلمہ حق کی حیثیت رکھتا ہے۔ بین الاقوامی انصاف اسی وقت قائم ہو سکتا ہے جب فلسطینی قوم کے ساتھ انصاف کیا جائے اور اس پر ڈھائے گئے تاریخی ظلم کا ازالہ ہو، کیونکہ جائز حقوق وقت گزرنے سے کبھی ختم نہیں ہوتے، خواہ اس میں کتنی ہی طویل مدت کیوں نہ گزر جائے۔
مراکش میں صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی مخالفت میں بڑھتی ہوئی تحریک
مراکش میں صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے عمل کی مخالفت میں تحریک مسلسل وسعت اختیار کر رہی ہے۔ اس عرصے کے دوران ملک بھر میں عوامی اور مزدور تنظیموں کی جانب سے اس عمل کی تمام شکلوں کے خلاف نمایاں سرگرمیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔
اس حوالے سے کئی اہم اقدامات سامنے آئے، جن میں سب سے نمایاں علمی و تعلیمی سطح پر تعلقات معمول پر لانے کی مخالفت ہے۔ اساتذہ اور محققین کی ایک بڑی تعداد نے 19 اکتوبر (27 مہر 1405 ہجری شمسی) کو منعقد ہونے والی ’’عسقلان کانفرنس‘‘ میں شرکت کے خلاف واضح اور مذمتی مؤقف اختیار کیا اور اس میں شرکت سے انکار کر دیا۔










آپ کا تبصرہ